بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے مطابق، یہ رپورٹ، جو جدید امریکی ڈیفنس سسٹمز، لاجسٹک انفراسٹرکچر اور فضائیہ سے متعلق سازوسامان کی تباہی پر مشتمل ہے، نہ صرف میدانِ جنگ کی صورت حال کو واضح کرتی ہے بلکہ جنگ جاری رکھنے کے لئے امریکی اسٹراٹیجک صلاحیت کے نئے افق کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔
حصۂ سوئم:
5۔ مستقبل کا منظر:
فرسودہ کر دینے والی جنگ [جنگ استنزاف (War of Attrition)] اور امریکی فوجی حکمتِ عملی کا زوال
بریگیڈیئر محبی کی رپورٹ اور ان کے حالیہ بیان کہ "دشمن یہ نہ سمجھے کہ وہ جنگ کو فرسودہ کرنے والی جنگ (جنگ استنزاف) بنا سکتا ہے"، سے ظاہر ہے کہ ایران نے ایئر ڈیفنس کو کور کرنے اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اپنا کر میدانِ جنگ میں پہل حاصل کر لی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی فیصلہ کن فوجی فتح بہت بعید لگتی ہے؛ اس کے لئے زمینی افواج کی تعیناتی اور زیادہ وسیع حملوں کی مہم کی ضرورت ہے جو ابھی تک نہیں دیکھی گئی۔ کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز پر تنازع کا طویل جنگ میں تبدیل ہونا، اس تنازع کے، دو طرفہ حملوں کے تبادلے سے دباؤ کی وسیع مہم کی طرف بدلتے ہوئے، مزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
بریگیڈیئر محبی نے اپنی رپورٹ میں بحرین میں واقع "مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پروسیسنگ مرکز" کے طور پر ایمیزون تنصیب کی تباہی کا تذکرہ بھی کیا جو امریکی فوجی صلاحیت سے منسلک غیر فوجی انفراسٹرکچر تھا اور یہ خطے میں امریکی اتحادیوں کے لیے سخت انتباہ ہے کہ جنگ میں کسی بھی قسم کی شرکت انہیں وسیع حملوں کا نشانہ بنا سکتی ہے۔
بریگیڈیئر محبی نے اسرائیل سے بھی کہا کہ اگر دوبارہ جنگ کی طرف پلٹنا چاہے تو جو بلائیں اس پر نازل کی جائیں گی ان کی کوئی مثال نہیں ہوگی۔
انھوں نے برطانیہ کو بھی خبردار کیا کہ اپنے ہوائی اڈے امریکہ کے سپرد کرکے ایران کے خلاف جارحیت کا حصہ بن گیا ہے اور ایران میں اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ برطانیہ نے بھی اپنا نام ایرانی افواج کے جائز عسکری اہداف کی فہرست میں درج کرا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارا جواب ضروری نہیں ہے کہ سب کے لئے ایک جیسا ہو اور ہم نے ہر دشمن کے ہر نئے اقدامات کے لئے الگ الگ منظرنامے تیار کر رکھے ہیں۔
انھوں نے امریکی افواج کے زیر قبضہ عرب ریاستوں سے بھی کہا ہے کہ ایران کے حملے اب تک ان ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر مرکوز رہے ہیں لیکن اگلے جنگی اقدامات میں انہیں بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
نتیجہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈيئر پاسدار محبی کی تفصیلی رپورٹ نہ صرف پچھلے 15 دنوں میں امریکی فوج کو پہنچنے والے نقصانات کے اعداد و شمار کو واضح کرتی ہے بلکہ ان نقصانات کی تزویراتی جہتوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز، ایندھن اور اسلحے کے گوداموں، اور ہینگرز میں موجود طیاروں کی تباہی نے خطے کے فوجی توازن کو ایران کے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔
جو بات واضح ہے وہ کوئی معمولی فوجی کارروائی نہیں، بلکہ امریکی فوجی صلاحیت کو "مفلوج" کرنے اور اس ملک کی طرف سے شدید جنگ جاری رکھنے کے امکانات کو کم کرنے کے لئے ایک مربوط اور منظم حکمتِ عملی ہے۔
میدانِ جنگ کا مستقبل اس حکمتِ عملی کے استحکام اور امریکہ پر خطے میں نئی حقیقتیں تسلیم کرنے کے لئے بڑھتے ہوئے دباؤ کا گواہ ہوگا۔ ان شاء اللہ، اس کی ایک نشانی مغرب ایشیا سے امریکیوں کو مار بھگانے سے عبارت ہوگی اور یہ حقیقت بہت جلد پوری دنیا کے پر آشکار ہوگی۔ البتہ، امامِ شہیدِ انقلاب اور دیگر شہدائے عظمت کا خونخواہی ان کے قاتلوں سے ـ جو مجرم اور بےآبرو ہیں ـ ایک علیحدہ معاملہ ہے جن کا تعاقب دیگر حسابات میں جاری ہے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: یداللہ ربیعی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ